ویسے تو ڈرونز کو دہشت کی علامت سمجھا جاتا ہے، انھیں تباہی اور بربادی سے تعمیر کیا جاتا ہے اور آسمان سے عذاب برسانے والے کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن پاکستانیوں نے اس کے ساتھ جو کیا وہ واقع ہی قابل ذکر ہے۔ قابئلیوں نے اسے قابو کر کے بیچا اور کڑوں کمائے۔
"قبا ئلیوں نے اسے قابو کر کے بیچا اور کڑوں کمائے۔"
یہ2007 کی ایک رات تھی جب ایک ڈرون افغانستان کے قریب واقع پاکیستانی قبائلی علاقے میں کسے تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر گیا۔ قبائلی سردار اور اس کے بیٹے نے اسے قابو کرلیا۔ یہ ایک بڑا سا سرمئی رنگ کا جہاز تھا جس پر میزائل اور دوسرے آلات لگے ہوئے تھے۔ قبیلے کے سب لوگ جمع تھے۔ کچھ لوگ ڈر رہے تھے کہ کہں کوئی بچا کچھا میزائل انھیں اڑا ہی نہ دے۔ لیکن خیریت گزری۔
بعد میں انھوں نے اس کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ انجن اور میزائل وغیرہ کو الگ الگ کر دیا گیا۔ اس کے بعد القئدہ کے لوگوں نے ان سے رابطہ کیا اور پھر بیت اللہ محسود (پاکستانی طالبان،٢٠٠٩ میں مارا گیا) نے بھی رابطہ کیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد ایک قبائلی سردار نے پاکیستانی حکومت کی طرف سے اسے خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی اور یوں اسے ایک کروڑ روپوں میں پاکستانی آرمی کو بیچ دیا گیا جہاں سے اسے میران شاہ کے فوجی اڈے میں لایا گیا اور پھر ہیلی کاپٹر میں ڈال کر نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
12:25
Unknown





Posted in: 


0 comments:
Post a Comment